موبائل کیسے ٹوٹا



کہانی: نصیحت کی قیمت

احمد آج بڑے مزاج میں تھا۔ جیب میں تنخواہ کی تازہ رقم، دل میں خوشی اور ہاتھ میں نیا موبائل۔ وہ بس میں بیٹھتے ہی ہیڈ فون کان میں لگائے موسیقی میں کھو گیا۔

سامنے ایک بوڑھا آدمی بیٹھا تھا۔ لمبی داڑھی، ماتھے پر جھریاں اور ہاتھ میں پرانی لکڑی کی چھڑی۔ احمد کو لگا یہ بھی ویسا ہی ہوگا جیسے اکثر بوڑھے ہر وقت نصیحتیں کرتے ہیں۔

کچھ دیر بعد بزرگ آگے جھکے اور مسکرا کر بولے:
"بیٹا، یہ موبائل نیچے گر نہ جائے، آپ کی جیب سے آدھا باہر ہے۔"

احمد نے جھنجلا کر ہیڈ فون اتارے اور غصے سے کہا:
"بابا جی، آپ اپنا خیال کریں۔ مجھے نصیحت کی ضرورت نہیں!"

بوڑھا خاموش ہوگیا۔ احمد پھر سے موسیقی میں ڈوب گیا۔

بس اگلے اسٹاپ پر پہنچی۔ اچانک ایک لڑکا بھاگتا ہوا آیا اور احمد کے پاس سے گزرتے ہی اس کا موبائل جھپٹ کر باہر دوڑ گیا۔ احمد چیخا چلایا مگر تب تک سب ختم ہوچکا تھا۔

اسی لمحے اس کی نظر بوڑھے پر پڑی۔ وہ چپ چاپ مسکرا رہے تھے جیسے کہنا چاہتے ہوں:
"بیٹا، نصیحت ہمیشہ مفت ملتی ہے، مگر اگر اسے نہ مانو تو نقصان بہت مہنگا پڑتا ہے۔"


سبق:

آداب یہ ہیں کہ بڑوں کی بات کو بوجھ نہ سمجھا جائے۔ اکثر وہ وہی دیکھ لیتے ہیں جو ہم اپنی جلد بازی میں بھول جاتے ہیں۔

Popular posts from this blog

ہمارے کورسز

App