حضرت عمر فاروق ؓ کا تعارف
خلیفہ دوم: حضرت عمر بن خطابؓ کا تعارف
حضرت عمرؓ بن خطاب قریش کے معزز خاندان بنو عدی سے تعلق رکھتے تھے۔ آپؓ کا لقب "فاروق" تھا کیونکہ آپؓ نے حق و باطل کے درمیان واضح فرق کر دیا۔ آپؓ کا شمار عشرہ مبشرہ (وہ دس صحابہ جنہیں دنیا میں جنت کی بشارت دی گئی) میں ہوتا ہے۔
اسلام قبول کرنا:
حضرت عمرؓ نے اسلام نبی کریم ﷺ کی دعا کے نتیجے میں قبول کیا۔ آپؓ نے اعلانِ اسلام کے بعد کھل کر اسلام کی حمایت کی اور مسلمانوں کو کھلے عام عبادت کا حوصلہ ملا۔
خلافت:
حضرت ابوبکر صدیقؓ کے انتقال کے بعد 13 ہجری میں حضرت عمرؓ خلیفہ منتخب ہوئے۔ آپؓ نے 10 سال تک خلافت کی اور اسلامی ریاست کو وسعت دی۔ ایران، شام، مصر اور عراق فتح ہوئے۔
ادارے اور نظام:
آپؓ نے کئی اہم نظام قائم کیے، جیسے:
- عدالتی نظام
- دیوان (رجسٹری) کا قیام
- پولیس نظام
- جیل خانہ جات
- مساجد اور سڑکیں تعمیر کرنا
اخلاق و تقویٰ:
حضرت عمرؓ اپنی عدالت، عدل اور انکساری کے لیے مشہور تھے۔ راتوں کو گشت کر کے عوام کے حالات دیکھتے۔ اپنی رعایا کو ہمیشہ اپنے بچوں سے بڑھ کر عزیز رکھا۔
شہادت:
26 ذوالحجہ 23 ہجری کو نماز فجر کے وقت ابو لؤلؤ فیروز نامی مجوسی نے آپؓ کو شہید کیا۔ آپؓ کو نبی کریم ﷺ اور حضرت ابوبکرؓ کے پہلو میں دفن کیا گیا۔
اللہ تعالیٰ حضرت عمر فاروقؓ کی خدمات کو قبول فرمائے اور ہمیں ان کی سیرت پر عمل کرنے کی توفیق دے، آمین۔
