نوحؑ نہیں جا رہے؟ کسی اور کو بھیج دو! (ایک دلچسپ واقعہ)

حافظ ابن الجوزیؒ اپنی مشہور کتاب المنتظم میں ایک نہایت دلچسپ واقعہ نقل کرتے ہیں، جو نہ صرف عرب ذوقِ مزاح کو ظاہر کرتا ہے بلکہ فصاحت و بلاغت کا ایک دل چسپ منظر بھی پیش کرتا ہے۔

ایک امام نماز میں سورہ نوح کی ابتدائی آیت تلاوت کر رہا تھا:

إِنَّا أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَىٰ قَوْمِهِ
(بیشک ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا)

لیکن وہ بار بار اسی آیت پر اٹک گیا، آگے نہ پڑھ سکا۔

تو پیچھے ایک دیہاتی نمازی جھنجھلا کر بول اٹھا:

لَمْ يَذْهَبْ نُوحٌ، فَأَرْسِلْ غَيْرَهُ وَأَرِحْنَا!
(اگر نوحؑ نہیں جا رہے تو کسی اور کو بھیج دے، اور ہمیں نماز سے نجات دلا!)

📌 سبق اور مسکراہٹ

عرب بدویوں کی سادگی اور برجستہ فطرت کا یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ دین کے ساتھ جُڑے ہوئے بھی تھے اور الفاظ کے چناؤ میں فطری طور پر مزاحیہ بھی۔ ان کی زبان فصیح تھی اور ان کا انداز برجستہ۔

نماز میں توجہ اور توازن ضروری ہے، اور امام کو چاہیے کہ اگر کسی آیت پر اٹک جائے تو آگے بڑھ جائے یا دوسرا حصہ تلاوت کرے تاکہ مقتدیوں کو تکلیف نہ ہو۔


اگر آپ کو یہ واقعہ پسند آیا تو ضرور شیئر کریں:

Facebook پر شیئر کریں WhatsApp پر شیئر کریں

Popular posts from this blog

ہمارے کورسز

App