جنتی صحابی ؓ کا عمل
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ جنتی ہے
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مسجد میں بیٹھے تھے کہ آپ ﷺ نے فرمایا:
"ابھی تمہارے سامنے ایک جنتی شخص آئے گا۔"
تو ایک انصاری صحابی مسجد میں داخل ہوئے، جن کے ہاتھ میں جوتے تھے اور ان کی داڑھی سے وضو کا پانی ٹپک رہا تھا۔
یہ بات تین دن مسلسل ہوئی، اور ہر دن وہی صحابی داخل ہوئے۔
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کا اشتیاق
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کو اشتیاق ہوا کہ معلوم کریں وہ کون سا عمل کرتے ہیں جس کی وجہ سے انہیں جنت کی بشارت ملی۔
انہوں نے اس صحابی کے پاس جا کر کہا:
"میرے اور میرے والد کے درمیان کچھ ناراضی ہو گئی ہے، کیا آپ مجھے تین دن کے لیے اپنے ہاں مہمان رکھ سکتے ہیں؟"
وہ صحابی رضی اللہ عنہ راضی ہو گئے۔
تین دن کی مہمانی
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے تین دن گزارے، مگر ان صحابی میں کوئی خاص نفل، روزے یا عبادت زائد نہیں دیکھی۔
تین دن بعد انہوں نے حقیقت بتائی اور پوچھا:
"رسول اللہ ﷺ نے آپ کو جنتی قرار دیا، میں نے آپ کے اعمال دیکھے مگر کچھ خاص نظر نہیں آیا، وہ کون سا عمل ہے؟"
انصاری صحابی کا جواب
اس انصاری صحابی نے فرمایا:
"میری عادت ہے کہ میں کسی مسلمان کے لیے دل میں کوئی حسد، بغض یا کینہ نہیں رکھتا، اور جو اللہ نے کسی کو دیا ہے اس پر میں حسد نہیں کرتا۔"
یہ سن کر حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا:
"یہی وہ چیز ہے جو تمہیں جنتی بناتی ہے، اور ہم اس کی طاقت نہیں رکھتے۔"
📚 حوالہ:
- مسند احمد بن حنبل (3/166)
- المستدرک للحاکم (3/9)
- السلسلة الصحيحة للألباني: حدیث نمبر 905
نوٹ: یہ واقعہ مختلف کتب حدیث میں آیا ہے، البتہ قاری حضرات حوالہ کی تحقیق خود بھی فرما لیں، ممکن ہے مجھ سے کسی جگہ خطا ہو گئی ہو۔