مریض لاعلاج

ایک حکیم کی دانائی – سبق آموز واقعہ

1970 کی دہائی میں ایک بے حد کمزور اور مایوس مریض کو چارپائی پر ڈال کر ایک مشہور حکیم، جناب عبدالرحیم خان مرحوم کے مطب میں لایا گیا۔ اہل خانہ نے بتایا کہ علاج تو بیرونِ ملک سے بھی کروایا، لیکن صحت سنبھلنے کا نام نہیں لے رہی۔

حکیم صاحب نے نبض پر ہاتھ رکھا، آنکھوں میں جھانکا، اور فوری طور پر اندازہ ہو گیا کہ یہ محض جسمانی بیماری نہیں — کچھ اور بھی ہے۔

انہوں نے سخت لہجے میں مریض کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: "اٹھو! یہ کیا تماشا لگا رکھا ہے؟ تم اتنے بیمار نہیں جتنے تم بن رہے ہو!"

یہ الفاظ جیسے بجلی کی کوند کی طرح دل پر اثر کر گئے۔ مریض کو سہارا دیا گیا، وہ اٹھ کر بیٹھ گیا۔ اس نے التجا کی: "جناب! آپ ہی میرا علاج کریں، میں سب کچھ دینے کو تیار ہوں۔"

حکیم صاحب نے نرمی سے کہا: "دوا ایک شرط پر ملے گی۔ اگلی بار آؤ، تو سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق داڑھی رکھ کر آنا، اور نماز کی پابندی کرنا۔"

مریض فوراً راضی ہو گیا۔ حکیم صاحب نے اپنے معاون سے بلند آواز میں کہا: "جاؤ، چودہ پڑیاں شفائی لے آؤ!"

یہ چودہ پڑیاں ایک خاص جڑی بوٹی "کریہہ کی خاک" پر مشتمل ہوتی تھیں، جو صرف ان مریضوں کو دی جاتی تھی جو لاعلاج سمجھے جاتے تھے، مگر دل میں رجوع کی نیت رکھتے تھے۔

حکیم صاحب نے صرف سوا دو روپے دوا کی قیمت لی، اور بعد میں وہی رقم گوشت خرید کر مریض کے نام کا صدقہ کر دیا۔

کچھ ماہ بعد، ایک باوقار بزرگ مطب میں داخل ہوئے۔ حکیم صاحب چونک گئے۔ بزرگ نے کہا: "جناب! پہچانا؟ میں وہی مریض ہوں جو چارپائی پر لایا گیا تھا!"

حکیم صاحب نے آسمان کی طرف دیکھا اور کہا: “بے شک میرا رب بڑی حکمت والا ہے۔”


📿 سبق:

بعض اوقات بیماری کا علاج دوا سے نہیں، نیت، رجوع اور سچائی سے ہوتا ہے۔ حکیم صاحب نے صرف دوا نہیں دی، ایک پیغام دیا، جو دل پر اثر کر گیا۔

آئیے ہم بھی اپنی زندگیوں میں سنت، نماز، اور صدقے کو شامل کریں — ہو سکتا ہے یہی ہماری شفا کا ذریعہ بن جائے۔


Popular posts from this blog

ہمارے کورسز

App