✍سچی کہانی
سچائی کا انعام
ایک گاؤں میں علی نام کا ایک غریب مگر ایمان دار لڑکا رہتا تھا۔ اُس کے والدین کا انتقال ہو چکا تھا اور وہ دن رات محنت مزدوری کر کے اپنا پیٹ پالتا تھا۔ علی کا ایک ہی اصول تھا: "چاہے جو ہو جائے، جھوٹ نہیں بولوں گا اور کسی کا حق نہیں ماروں گا۔"
ایک دن گاؤں کے رئیس کا بیٹا بازار میں کھیلتے ہوئے اپنا سونے کا قیمتی کنگن کھو بیٹھا۔ رئیس نے اعلان کروایا:
"جو بھی میرا بیٹے کا کنگن واپس لائے گا، اُسے انعام میں ہزار دینار دیے جائیں گے!"
اسی دن علی کو وہ کنگن ایک درخت کے نیچے سے ملا۔ اس نے فوراً اسے اٹھایا اور سوچنے لگا، "اگر میں یہ کنگن رکھ لوں، تو میرے کئی سال کے مسئلے حل ہو سکتے ہیں… مگر یہ میرا نہیں، اسے واپس کرنا ہی بہتر ہے۔"
اُس نے کنگن کو صاف کیا اور رئیس کے گھر جا پہنچا۔ رئیس نے جب دیکھا کہ علی نے ایمانداری سے کنگن واپس کیا ہے تو وہ بہت متاثر ہوا۔ اُس نے علی کو ہزار دینار دینے کی کوشش کی، مگر علی نے انکار کرتے ہوئے کہا:
"جناب! میں نے یہ کام اللہ کی رضا کے لیے کیا ہے، انعام کے لیے نہیں۔"
یہ سن کر رئیس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اُس نے اعلان کیا: "آج کے بعد علی میرے بیٹے کے ساتھ تعلیم حاصل کرے گا، اور میں اُس کا تمام خرچ برداشت کروں گا۔"
یونہی وقت گزرتا گیا، علی نے تعلیم مکمل کی، عالم دین بنا، اور لوگوں کو سچائی، دیانت اور ایمان داری کا درس دینے لگا۔ گاؤں کے بچے اُس کی مثال دیتے اور کہتے:
"اگر سچ بولنا سیکھنا ہو، تو علی کی کہانی سنو!"
📚 سبق:
سچائی وقتی نقصان کا باعث بن سکتی ہے، مگر آخر کار اللہ اُسے بلند مرتبہ دیتا ہے۔
